بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عدّت میں کیا ہوا نکاح کا حکم

سوال

معتدّہ خاتون دورانِ  عدت نکاح کرسکتی ہے یا نہیں؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں عدّت کے دوران کیا ہوا نکاح شرعی طور پر جائز نہیں ہے، اور ایسا کیا ہوا نکاح از رُوئے شرع سرے سے منعقد بھی نہیں ہوتا۔

فتاویٰ شامی (حاشية ابن عابدين) میں ہے:

"أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا".

(کتاب النکاح، باب العدّۃ،مطلب عدة المنكوحة فاسدا والموطوءة بشبهة ، ج:3، ص:516، ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404100906
تاریخ08-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں