بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عباد حسین یا محمد عباد نام رکھنا

سوال

عباد حسین یا محمد عباد (ع پر زبر اور ب پر تشدید) نام رکھا جا سکتا ہے؟

جواب

"عَبَّاد" (عین کے زبر، باء مشدد کے زبر ساتھ) ہو تو اس کا معنیٰ آتا ہے، بہت زیادہ عبادت گزار۔اور اس کے ساتھ اللہ کے نام  "الرحمٰن" کی اضافت بھی کر سکتے ہیں، معنیٰ ہوگا: رحمٰن کا بہت زیادہ عبادت گزار بندہ۔

 "محمد عَبَّاد " نام رکھنا درست ہے،  البتہ عباد حسین نام نہ رکھا جائے ،اس میں اللہ کے بجائے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی عبادت کرنا واضح ہوتا ہے اور یہ صحیح نہیں ہے ۔

اسد الغابۃ میں ہے :

"قلت: وقيل فيه: عباد، بفتح العين، وبغير هاء في آخره."

 (3 / 54،ط : دارالفكر )

المحكم والمحيط الأعظم:

"وأعْبُدٌ ومَعْبَدٌ وعَبِيدَة وعَبْد وعُبادةُ وعَبَّادٌ وعَبْدِيدٌ وعِبْدَانُ وعَبْدَة وعَبَدَة: أسماءٌ."

 (2 / 28، ط:دارالكتب العلمية )

الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ میں ہے :

"ذكر من اسمه عبّاد بفتح أوله والتشديد."

"4471- عبّاد بن أخضر ."

(3 / 495، ط: دارالكتب العلمية )

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404100882
تاریخ08-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں