بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عضو مخصوص کی سُپاری بیوی کی شرم گاہ میں داخل ہونے سے غسل واجب ہے اگرچہ انزال نہ ہو

سوال

اگر بیوی کے ساتھ سیکس کرتے ہوئے عضو تناسل ڈھیلا ہو کر اس کی وجائنہ سے باہر نکل آئے اور منی بھی خارج نہیں ہوئی تو کیا ایسی صورت میں میاں اور بیوی پر غسل کرنا ضروری ہے کہ نہیں؟ کیونکہ اگر انزال نہ ہو تو غسل فرض نہیں ہوتا۔

جواب

اگر ہم بستری کرتے ہوئے شوہر کے عضو مخصوص کا سر یا اس کے برابر حصہ بیوی کی شرم گاہ میں داخل ہوجائے تو انزال نہ بھی ہو تب بھی میاں بیوی دونوں پر غسل واجب ہوجاتا ہے، آپ کی بات کہ ’’اگر انزال نہ ہو تو غسل فرض نہیں ہوتا‘‘ غلط ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"(السبب الثاني الإيلاج) الإيلاج في أحد السبيلين إذا توارت ‌الحشفة يوجب الغسل على الفاعل والمفعول به أنزل أو لم ينزل وهذا هو المذهب لعلمائنا. كذا في المحيط وهو الصحيح. كذا في فتاوى قاضي خان ولو كان مقطوع ‌الحشفة يجب الغسل بإيلاج مقدارها من الذكر. كذا في السراج الوهاج."

 (كتاب الطهارة، الباب الثاني في الغسل،الفصل الثالث في المعاني الموجبة للغسل،1/ 15، ط: رشيدية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404100655
تاریخ05-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں