بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شادی ہال کے لیے گھر یا زمین دینے کا حکم

سوال

شادی ہال کے لیے گھر یا زمین دینا کیسا ہے ؟

جواب

شادی ہال کے لیے گھر یا زمین دینا  جائز ہے،البتہ ا س جگہ   جوخلاف شرع کام کریں گے،اورفسق وفجور  کے مرتکب ہوں گے ،وہ گناہ گار ہوں گے،اور معاون بھی جب کہ انہیں معلوم ہو کہ خلافِ شرع کام ہوں گے۔

علامہ سرخسی   رحمہ  اللہ فرماتے ہیں :

"لابأس بأن یواجر المسلم داراً من الذمي لیسکنها، فإن شرب فیها الخمر أو عبد فیها الصلیب أو أدخل فیها الخنازیر لم یلحق للمسلم أثم في شيءٍ من ذلك؛ لأنه لم یوجرها لذلك والمعصیة في فعل المستاجر دون قصد رب الدار فلا إثم علی رب الدار في ذلك."

(المبسوط،کتاب الاجارات،باب  الاجارۃ الفاسدۃ،16/ 39 ط:دارالمعرفۃ) 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404100632
تاریخ05-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں