بچے کی نجاست صاف کرنے کے بعد وضو کا حکم
سوال
سال کے بچے یا بچی کی پوٹی یا پیشاب کو دھلوانے کے بعد عورت کا وضو قائم رہتا ہے یا نیا وضو کرنا ہو گا؟
جواب
کسی بھی عمر میں بچے کی نجاست صاف کرنے کے بعد ماں کا دوبارہ وضو کرنا ضروری نہیں ہے۔ وضو صرف نواقض وضو سےٹوٹتا ہے۔
وضو توڑنے والی چیزیں درج ذیل ہیں :
- پاخانہ یا پیشاب کی جگہ سے کسی چیز کا نکلنا۔
- جسم سے خون یا پیپ کا نکل کر مخرج سے پاک جگہ پر پہنچنا۔
- ٹیک لگا کر سونا۔
- منہ بھر کے قے آنا۔
- بالغ کا نمازِ جنازہ کے علاوہ نماز کے اندر قہقہہ لگانا۔
- بے ہوشی۔
- منہ سے خون نکل کر تھوک پر غالب آنا۔
- مباشرتِ فاحشہ۔ (یعنی بلاحائل میاں بیوی کی شرم گاہوں کا ملنا)
البتہ بچے کی نجاست صاف کرتے ہوئے نجاست ماں کے کپڑے یا بدن کے کسی حصے پر لگے تو اسے پاک کرنا ضروری ہوگا۔
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144404100613
تاریخ05-11-2022

