بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کا شوہر کی اجازت کے بغیر میکے جانے کی صورت میں نفقہ کا حکم

سوال

میرے بھائی اور بھابھی کا مسئلہ چل رہا ہے ،دس مہینے پہلے  بھابھی اپنے والدین کے گھر گئی ہے اس کو ایک لڑکاپسند ہے جس کی وجہ سے واپس نہیں آ رہی اور کہہ رہی ہے کہ مجھے میرا اور میرے ساڑھے تین سال کے بچے کا خرچہ چاہیے اور واپس بھی نہیں آؤں گی جب کہ ہم کہہ رہے ہیں کہ طلاق اور خلع میں کوئی ایک بھی نہیں ہوا تو آپ اپنے شوہر کے گھر آجاؤ، ہم خرچہ وغیرہ دیں  گے، اب پوچھنا یہ ہے کہ اس کا  خرچہ کا مطالبہ کرنا کیسا  ہے؟ تبھی اس نے اپنا بچہ بھی نو مہینے سے لیا ہے ،حالانکہ ہم نے شروع سے اس کو پالا تھا وہ بھی ہمارے پاس خوش ہے ۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب سائلہ کی بھابھی اپنے شوہر کی رضامندی کے بغیر اپنے میکے گئی ہے تو وہ نفقہ کی شرعا حق دار نہیں ہے، البتہ  بچے کاخرچہ باپ یعنی سائلہ کی بھابھی  کے شوہر کےذمہ ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن نشزت فلا نفقة لها حتى تعود إلى منزله والناشزة هي الخارجة عن منزل زوجها المانعة نفسها منه...... نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرة."

(کتاب النفقات،1/ 545 و 560،ط:رشیدية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404100566
تاریخ03-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں