بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دوسری شادی کی صبح پہلی بیوی کی قبر پر میٹھا دودھ ڈالنے کا حکم

سوال

میری بیوی فوت ہوچکی ہے،اب میں دوسری شادی کرتا ہو ں، کسی نے مجھے بتایا کہ دوسری شادی کی صبح پہلی بیوی کے قبر کے سرہانے میٹھا دودھ ڈالوگے، کیا اس نے درست کہا ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں دوسری شادی  کی صبح پہلی بیوی کی قبر کے سرہانے میٹھا دودھ ڈالنے کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں اور اس کے ساتھ  ساتھ یہ مال کا ضیاع بھی ہے جو کہ شرعاً ممنوع ہے اور بے جا مال ضائع کرنے والوں کو شیطان کا بھائی کہا گیا ہے،لہذا اس طرح کرنا جائز نہیں ہے۔

ارشادِ باری تعالی ہے:

"إِنَّ ٱلۡمُبَذِّرِينَ كَانُوٓاْ إِخۡوَٰنَ ٱلشَّيَٰطِينِۖ وَكَانَ ٱلشَّيۡطَٰنُ لِرَبِّهِۦ كَفُورٗا.(الإسراء:27)"

"ترجمہ:بے شک بے موقع اڑانے والے شیطان کے بھائی بند ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے۔"(بیان القران)

مشکوۃ شریف میں ہے:

"عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌من ‌أحدث ‌في ‌أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد»."

(كتاب الإيمان ،باب الإعتصام بالكتاب والسنة،الفصل الأول،27/1،ط:رحمانية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404100551
تاریخ03-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں