بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 ربیع الثانی 1448ھ 09 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا ہم اپنے شیخ کے دیے ہوئے معمولات کو اجتماعی طور پر کر سکتے ہیں؟

سوال

جو معمولات  ہمارے پیر صاحب جن سے ہمارا اصلاحی تعلق ہے نے ہمیں دیے ہیں، کیا ہم ان کو اجتماعی طور پر کرسکتے ہیں؟

جواب

جس شیخ  سے آپ کا اصلاحی تعلق ہے  اُن  کے  بتائے ہوئے معمولات کا  طریقۂ کار  جاننےکے بارے میں آپ  اپنے شیخ سے رجوع کرلیں،  وہ آپ کو جو طریقۂ کار بتائیں اس کے مطابق عمل کریں، اپنی مرضی پر نہ چلیں، شیخ کی تمام  تر   (جائز و درست) ہدایات پر عمل کریں،  تاکہ آپ کو مکمل فائدہ ہوسکے۔

تلازم الشریعة و الطریقة  میں ہے:

"أكبر شيئ في الأشغال ذكر الله، و أهم شيئ في الأذكار كلها هو "لاإله إلا الله"، لذالك يهتم في جميع طرق الصوفية بالذكر بهذه الكلمة الشريفة وإن اختلفت الهيئة والطريقة في الذكر عند أحدهم عن الآخر كما أنه يوجد باستمرار الاختلاف في محتويات الأدوية وتركيباتها عند الأطباء."

(الأشغال والأحوال، ص: 154، ط: مكتبة الحرمين)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144404100550
تاریخ03-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں