بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مذاق میں کسی کی نماز جنازہ پڑھنے کرنے کا حکم

سوال

کیا مذاق میں نمازِ جنازہ پڑھنا جائز ہے ؟ مطلب کوئی سیاسی جماعت برسرِ اقتدار سیاسی جماعت کا نماز جنازہ احتجاجاً پڑھ لے تو اس کے متعلق ہمارے مذہب میں کیا حکم ہے؟

جواب

جنازہ کی   نماز شعائر اسلام میں سے ہے، جس کا مذاق بنانا جائز نہیں، پس   اگر جنازہ کی نماز  بطوراستہزاء  کی   جائے، یعنی مقصد نماز جنازہ کا مذاق  اڑایا ہو،  تو ایسا کرنا   کفر ہے، البتہ اگر  نماز جنازہ کا مذاق اڑانا مقصود نہ ہو، اس عمل سے مخالف کی توہین کرنا ہو، تو ایسا کرنا گناہ عظیم ہونے کی وجہ سے    جائز نہیں، جس پر صدق دل سے توبہ کرنا لازم ہے،  لہذا صورت مسئولہ میں سیاسی اختلافات اور مخالفین کے خلاف احتجاج کا یہ طریقہ اختیار کرنا نہایت قبیح عمل ہے، ایسا کرنے والوں  پر صدق دل سے توبہ و استغفار کرنا  لازم ہوگا۔

رد المحتار  علی الدر  المختار  میں ہے:

"كفر الحنفية بألفاظ كثيرة، وأفعال تصدر من المنتهكين لدلالتها على الاستخفاف بالدين كالصلاة بلا وضوء عمدًا بل بالمواظبة على ترك سنة استخفافًا بها بسبب أنه فعلها النبي صلى الله عليه وسلم زيادة أو استقباحها كمن استقبح من آخر جعل بعض العمامة تحت حلقه أو إحفاء شاربه اهـ. قلت: ويظهر من هذا أن ما كان دليل الاستخفاف يكفر به."

(باب المرتد، ٤ / ٢٢٢، ط: دار الفكر)

إحياء علوم الدين للغزالي میں ہے:

"ومعنى السخرية الاستهانة والتحقير والتنبيه على العيوب والنقائص على وجه يضحك منه وقد يكون ذلك بالمحاكاة في الفعل والقول وقد يكون بالإشارة والإيماء."

( كتاب آفات اللسان، ٣ / ١٣١، ط: دار المعرفة - بيروت)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404100419
تاریخ01-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں