بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لڑکی کا اپنے پھوپھا کے ساتھ عمرہ کا سفر کرنے کا حکم

سوال

انتیس  سال کی غیر شادی شدہ لڑکی کا اس کے پھوپھا کے ساتھ عمرہ کرنے کا کیا  حکم ہے؟

جواب

عورتوں کے لیے سفرشرعی کی مسافت (48 میل) یا اس سے زیادہ بغیر محرم کے سفر کرنا جائز نہیں ، چاہے  عورت جوان ہو یا بوڑھی ہو، تنہا ہو یا اس کے ساتھ دیگر عورتیں ہوں، عمرے کا سفر ہو یا کوئی اور سفر، کسی بھی حالت میں  محرم کے بغیر جانا جائز نہیں، صورت مسؤلہ میں  چونکہ پھوپھا نامحرم ہے،اس لئے مذکورہ  لڑکی کا  پھوپھا کے ساتھ عمرہ  کاسفرکرناجائز نہیں ۔

 واضح  رہے کہ  یہ جواب  اس  صورت  میں  ہے  جب سائل  کا منشاء اور مقصدسفرشرعی کی مسافت (48 میل) یا اس سے زیادہ عمرے کاسفر  کرنا  ہے،حدیث شریف میں آتا ہے:

صحيح مسلم میں ہے:

''عن عبد الله بن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر، تسافر مسيرة ثلاث ليال، إلا ومعها ذو محرم".

"یعنی جو عورت   اللہ اور قیامت کے دن پر یقین رکھتی ہو  اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ محرم کے بغیر تین رات کا سفر کرے۔"

(صحيح مسلم،کتاب الحج ،باب سفر المرأة مع محرم إلى حج وغيره،4/ 102 ط:دار الطباعۃ العامریۃ )

الفتاوى الهندية" میں ہے:

"(ومنها: المحرم للمرأة) شابةً كانت أو عجوزاً."

(كتاب المناسك ،الباب الأول في تفسير الحج وفرضيته ووقته وشرائطه وأركانه،1/ 218 ط: رشیدیه )

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404100414
تاریخ01-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں