بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

منت کو پورا کرنا واجب ہے

سوال

ایک  بندہ  منت  مانے  کہ  اگر  فلاں  کام  ہوگیا  تو  بیس  رکعات  نماز  پڑھوں  گا  ،  پھر  وہ  کام  پورا  ہوجائے، لیکن وہ بیس رکعات نہ پڑھے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جس کام کے لیے منت مانی گئی تھی اگر وہ کام پورا ہوگیا ہے تو اب اس شخص کے ذمہ بیس رکعات کی ادائیگی ہی  واجب ہے۔ 

قرآن مجید میں ارشاد ہے:

"ولیوفوا نذورھم." (الحج: 29)

الفتاوی الهندية میں ہے:

"وكذا لو قال: علي حجة سواء كان النذر مطلقا أو معلقا بشرط، بأن قال إن فعلت، كذا فلله علي أن أحج حتى يلزمه الوفاء إذا وجد الشرط ولا يخرج بالكفارة في ظاهر الرواية."

(کتاب الحج، الباب السابع عشر فی النذر بالحج: 1/ 262، ط: رشیدیه)

فتاوی شامی میں ہے:

"ومن نذر نذراً مطلقاً أو معلقاً بشرط وکان من جنسه واجب أی فرض… وهو عبادة مقصودة… ووجد الشرط… لزم الناذر کصوم وصلاة."

(کتاب الأیمان، مطلب فی احکام النذر: 3/ 735،ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404100412
تاریخ01-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں