بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 جُمادى الأولى 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ٹی وی چینل میں کام کرنے والے کی جانب سے دئیے گئے تحفہ کا حکم

سوال

میرے کزن نے ہدیہ دیا ہے عمرہ سے آکر، جس میں  مصلی  ، چاکلیٹ ، زمزم کاپانی وغیرہ ہے،  لیکن میرا کزن جہاں کام کرتا ہے وہ میٹرو نیوز چینل میں کام کرتا ہے اور جاندار کی فوٹو ایڈیٹنگ کا کام ہے،تو کیا اس کا ہدیہ استعمال کر سکتے ہیں یا یہ حرام مال ہے؟

جواب

 صورت مسئولہ  میں  سائل  اپنے مذکورہ  رشتہ دار سے دریافت کرلے، کہ آیا یہ سب ہدایا چینل کی کمائی سے خریدیں ہیں  یا اس کے علاوہ حلال مال سے، پس اگر وہ حلال مال سے خریدنے  کا کہے، تو اس کی بات کو تسلیم کرکے استعمال کرنا جائز ہوگا، بصورت دیگر  مذکورہ اشیاء  اپنے استعمال  میں لانا جائز نہ ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع."

(كتاب الكراهية، الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات، ٥ / ٣٤٣، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144404100365
تاریخ01-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں