بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرحوم بیٹے کے نام پر نام رکھنا

سوال

ایک بیٹا جو کہ مرجائے تو وہی نام جو اس پہلے والے کا تھا،  دوسرے بیٹے کے لیے  رکھ سکتے ہیں ؟

جواب

مرحوم بیٹے کے نام  کا معنی ومفہوم درست ہو تو  دوسرے بیٹے کا یہی نام رکھ سکتے ہیں، مرحومین کے نام پر نام رکھنے کی ممانعت نہیں ہے۔

صحيح بخاری میں ہے:

"وأصيب يومئذ فيهم عروة بن أسماء بن الصلت، فسمي عروة، به ومنذر بن عمرو، سمي به منذرا."

  (5/ 106، باب غزوة الرجيع، ط: دارطوق النجاة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404100324
تاریخ01-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں