بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کو راہ گزر بنانا

سوال

مسجد کے ساتھ صحن ہے، اس میں چار سیڑھیاں ہیں، لوگ اس کو راہ گزر کے طور پر استعمال کرتے ہیں، میں نے انھیں شرعی مسئلہ بتایا کہ اگر یہ سیڑھیاں مسجد میں داخل نہیں تو معتکف کااعتکاف ٹوٹ جائے گا، اور اگر مسجد میں داخل ہیں تو راہ گزر کے طور پر استعمال کرنا جائز نہیں، حالانکہ وہ سیڑھیاں مسجد میں داخل ہیں، کیا ان کوراہ گزر بنانا جائز ہے؟

جواب

مسجد كو راه گزر كے طور پر استعمال كرنا مكروهِ تحريمي ہے، لہذا   جب صحن ميں موجود سيڑھیاں مسجد میں داخل ہیں تو انہیں  راہ گزر کے طور پر استعمال کرنے سے اجتناب کیا جائے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) كره تحريما (الوطء فوقه، والبول والتغوط) لأنه مسجد إلى عنان السماء (واتخاذه طريقا بغير عذر) وصرح في القنية بفسقه باعتياده."

(‌‌کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، 1/ 656، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404100301
تاریخ01-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں