بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹی کا نام انعمت رکھنا

سوال

میری بیٹی کا نام "انعمتَ" ہے ،کیا یہ نام قرآن مجید میں سے ہے اور اس کے معنی کیا ہیں؟

جواب

"اَنعمتَ"  اگر چہ عربی زبان کا لفظ ہے ، اور قرآن کریم میں موجود ہے، جس کے معنیٰ ہے "تونے انعام کیا"یہ عربی زبان میں فعل (verb)  ہے، اسم نہیں ہے؛ اور نہ ہی کسی مؤنث کا نام ہے، لہذا  یہ نام نہ رکھا جائے ،بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام صحابیات یا ازواج  مطہرات کے نام پر رکھا جائے ۔

حدیث میں ہے :

"عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم، وأسماء آبائكم، ‌فأحسنوا أسماءكم»"۔

 ( سنن ابی داود،کتاب الأدب ، باب في تغییر الأسماء، ج: 4،  ص :287، ط : المکتبۃ العصریۃ، بیروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404100245
تاریخ31-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں