بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سونا قرض لے کرادائیگی پیسوں کی صورت میں موجودہ ویلیوکے حساب سے کرنے کا حکم

سوال

میں نے اپنے بھائی کو ایک تولہ سونا قرض دیاتھا ،اس وقت اس کی قیمت 72ہزارروپے تھی، اب وہ مجھے واپس کرنا چاہتا ہے، لیکن مجھے اس وقت رقم کی ضرورت ہے، کیا میں اس سے رقم وصول کرسکتا ہوں،جب کہ آج کل سونے کی قیمت اس وقت كے اعتبارسے بہت زیادہ ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل نے اپنے بھائی کو ایک تولہ سونابطورِ قرض دیاتھاتو سائل کے بھائی کے ذمہ ایک تولہ سونایااس کی موجودہ قیمت دینالازم ہے،لہذااگرسائل اپنے بھائی سے ایک تولہ سوناکی موجودہ قیمت لیناچاہےتولے سکتاہے۔

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"وإن استقرض دانقا فلوسا، أو نصف درهم فلوس فرخصت، أو غلت لم يكن عليه إلا مثل عدد الذي أخذ؛ لأن الضمان يلزمه بالقبض، والمقبوض على وجه القرض مضمون بمثله."

(كتاب الصرف ، باب البيع بالفلوس ج : 14ص : 30 ط : دار المعرفة)

فتاوی شامی میں ہے:

"استقرض ‌مائة ‌دينار من نوع فلا بد أن يوفي بدلها مائة من نوعها الموافق لها في الوزن أو يوفي بدلها وزنا لا عددا، وأما بدون ذلك فهو ربا."

(كتاب البيوع ، باب الربا  ج : 5 ص : 177 ط : سعيد)

المحیط البرھانی میں ہے:

"‌الديون ‌تقضى بأمثالها، فيصير المقبوض مضموناً على القابض ديناً للدافع."

( كتاب الدعوي ،  ‌‌الفصل الثاني: في بيان صحة الدعاوى وبيان ما يسمع منها وما لا يسمع ج : 9 ص : 8 ط : دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404100108
تاریخ29-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں