بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ٹیکسی اور جس زمین پر قبضہ اور نفع نہ ہو اس پر زکات

سوال

 ہم دبئی میں رہائش پزیر ہیں، دو گاڑیاں ہیں جن کی قسطیں مکمل ہو چکی ہیں اور یہ گاڑیاں ٹیکسی سروس دیتی ہیں، اس کے ساتھ کبھی کبھی ذاتی استعمال میں بھی آجاتی ہیں،آمدن غیر مستقل ہے، کبھی اچھی اور کبھی نہ ہونے جیسی، سال کے آخر میں بچت کا کوئی اندازہ نہیں، زیور نہیں ہے،زمین نہ ہونے جیسی ہے،یعنی ہے لیکن نہ قبضہ ہے نہ اس کی آمدن ہے، ہمیں زکواۃ کس حساب سے دینی چاہئیے؟

جواب

ذرائع آمدنی کے طور پر خریدی جانے والی ٹیکسیوں کی مالیت پر زکوٰۃ نہیں ہوتی، بلکہ فروخت کرنے کی غرض سے خریدی جانے والی گاڑیوں اور دیگر اموال پر زکوٰۃ ہوتی ہے، باقی سوال میں زمین کے معاملہ  کی وضاحت  مطلوب ہے،اس کی تفصیل کرکے سوال دوبارہ بھیج دے۔

1:زمین تجارت کے لیے خریدی گئی ہے یا کسی اور مقصد کے لیے ۔

2:زرعی زمین ہے؟

3:نہ قبضہ ہے نہ اس کی  آمدن اس کا کیا مطلب ہے؟

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404100030
تاریخ27-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں