زبان میں لکنت کی وجہ سے نماز میں الفاظ صاف ادا نہیں ہوتے؛ کیا اس پر مواخذہ ہوگا؟
سوال
میری زبان میں لکنت ہے نماز کے بعض الفاظ صاف ادا نہیں کرسکتا اگر مجھ سے کوئی غلطی ہو جائے اس پر تو مواخذہ تو نھیں ؟
جواب
اگر سائل کی زبان میں لکنت ہے جس کی وجہ سے الفاظ صاف ادا نہیں ہوتے اور کسی قاری سے مشق کرکے اصلاح کی کوشش کے باوجود تلفظ صحیح نہیں ہوتے تو سائل معذور ہے، اس پر سائل سےکوئی مواخذہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس قدر مکلف بنایا ہے جو اس کے بس میں ہے، لیکن اگر مشق کرنے سے اصلاح ہوسکتی ہو تو اصلاح کی کوشش کرے۔
قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا...الآية (سورة البقرة، رقم الآية: 285)
ترجمہ:اللہ تکلیف نہیں دیتاکسی کو مگر جس قدر اس کی گنجائش ہے۔۔۔ (ماخوذ از تفسیر عثمانی)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

