بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مردانہ صفات کے حامل خنثی کے لیے آپریشن کے ذریعے اپنے آپ کو مکمل مرد بنانے کا حکم

سوال

کیا آپریشن کے ذریعے خنثیٰ اپنی جنس کو تبدیل کر سکتا ہے؟ مثلا جو مرد کے قریب ہے کہ وہ آپریشن کے بعد مرد بن سکتاہے  اور وہ سلسلہ جو عورت کے جنس کے قریب ہے کیا وہ آپریشن کے بعد عورت بن سکتی ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جو خنثی "خنثی مشکل"  نہیں ہے، تو اگر وہ مردانہ صفات کا حامل ہے تو اس پر از رُوئے شرع مردانہ احکام لاگو ہوتے ہیں، اور جو خنثی زنانہ صفات  کاحامل ہے، تو اس پر زنانہ احکام لاگو ہوتے ہیں، لہذا مردانہ صفات کا متحمّل خنثی مذکورہ عیب کے ازالہ کے  لیے آپریشن کرکے اپنے آپ کو مرد بنانا یا زنانہ صفات کے متحمّل خنثی کے  لیے آپریشن کے ذریعے مذکور عیب دورکرنے کی گنجائش ہے۔ 

فتاویٰ عالمگیری (الفتاوى الهنديۃ) میں ہے:

"إذا أراد الرجل أن يقطع إصبعا زائدة أو شيئا آخر قال نصير - رحمه الله تعالى - إن كان الغالب على من قطع مثل ذلك الهلاك فإنه لا يفعل وإن كان الغالب هو النجاة فهو في سعة من ذلك رجل أو امرأة قطع".

(کتاب الکراهیة، الباب الحادي والعشرون فيما يسع من جراحات بني آدم والحيوانات، ج:5، ص:360، ط:المکتبة الرشیدیة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403102358
تاریخ26-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں