بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’مجتبیٰ‘‘ تام تبدیل کرکے ’’مصعب‘‘ یا ’’عمار‘‘ نام رکھنے کا حکم

سوال

میں نے اپنے بیٹے کا نام ’’مجتبیٰ‘‘ رکھا تھا، بیٹے کی عمر دو ہفتوں سے کچھ زیادہ ہے، اب بلا وجہ  (سوائے قلبی چاہت کے) میں یہ نام تبدیل کر کے ’’مصعب‘‘ یا ’’عمار‘‘ نام رکھنا چاہتا ہوں، کیا اس طرح نام تبدیل کرنے میں کوئی حرج تو نہیں ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں بچے کا ’’مجتبیٰ‘‘ نام درست ہے، اس کے باوجود اسے  تبدیل کرکے ’’مصعب‘‘ یا ’’عمار‘‘ نام رکھنے میں بھی شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے۔

الموسوعۃ الفقہیۃ میں ہے:

"والفقهاء لا يختلفون في جواز تغيير الاسم إلى اسم آخر، وفي أن تغيير الاسم القبيح إلى الحسن هو من الأمور ‌المطلوبة ‌التي ‌حث ‌عليها الشرع."

(المصطلح:تسمية، تغيير الإسم و تحسينه، ج:11، ص:337، ط:دار السلاسل)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403102313
تاریخ26-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں