بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

باپ کے ساتھ سفرِ عمرہ پر بیٹی گئی ہے، کیا اب وہ تنہا دوسرے عمرہ کے لیے مسجدِ عائشہ سے احرام باندھ سکتی ہے؟

سوال

بیٹی باپ کے ساتھ عمرہ پر گئی ہے ،باپ ضعیف ہے، بیٹی مزید عمرہ کرنا چاہتی ہے ،تو کیا وہ تنہا مسجد عائشہ سے احرام باندھ کر عمرہ کر سکتی ہے؟

جواب

عورت کے لیے محرم کی شرط شرعی سفر کے لیے ہے، یعنی عورت کے لیے بغیر محرم اڑتالیس میل سفر کرنا جائز نہیں،مسجد ِعائشہ اور حرم کے درمیان چوں کہ اتنی مسافت نہیں ہے، لہٰذابیٹی کے لیے تنہامسجدِ عائشہ سے احرام باندھ کر مزید عمرے کرنا جائزہے، بشرط یہ  کہ محرم کے بغیر جانے کی صورت میں کسی اجنبی کے ساتھ خلوت نہ ہو، نیز تنہا جانے کی صورت میں فتنے کا اندیشہ نہ ہو۔

فتاوٰی ہندیہ میں ہے:

"(ومنها المحرم للمرأة) شابة كانت أو عجوزا إذا كانت بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام هكذا في المحيط، وإن كان أقل من ذلك حجت بغير محرم."

(كتاب الحج، الباب الأول في تفسير الحج، وفرضيته ووقته وشرائطه....، 218،219/1، ط: رشيدية)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وما دون ثلاثة أيام ليس بسفر فلا يشترط فيه المحرم كما لا يشترط للخروج من محلة إلى محلة."

(كتاب الحج، فصل شرائط فرضية الحج، 124/2، ط: دار الكتب العلمية)

  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403102271
تاریخ25-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں