بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرآنِ کریم کی تلاوت اور ورزش میں سے قابلِ ترجیح امر

سوال

میں نے ایک دوست سے کہا کہ جم جاکر ورزش کرنے کے بجاۓقران کریم پڑھا کرو،کیا میں نے اس کو صحیح مشورہ دیا ہے یا نہیں ؟

جواب

قرآنِ کریم کی تلاوت ورزش پر مقدم ہے، لہٰذا اگر کسی کے پاس اتنا ہی وقت فارغ ہو کہ یا تو وہ قرآنِ کریم کی تلاوت کرسکتا ہو یا ورزش کرسکتا ہو تو قرآنِ کریم کی تلاوت کو ورزش پر مقدم کرنا چاہیے، البتہ چوں کہ ورزش بھی فی نفسہِ بدن کے لیے ایک مفید چیز ہے اور بہت سی عبادات کا تعلق بدن کی صحت سے ہے اس لیے کوشش کرنی چاہیے کہ آدمی قرآنِ کریم کی تلاوت کرنے کے ساتھ ساتھ روزانہ کچھ وقت ورزش کے لیے بھی نکال لیا کرے، نیز ورزش کے لیے کسی جِم کا انتخاب کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ وہاں جانے سے کسی غیر شرعی فعل کا ارتکاب لازم نہ آتا ہو، لہٰذا جس جِم میں گانے بجتے ہوں یا ایسا لباس پہننا پڑتا ہو جس میں ستر نہ چھپتا ہو تو ورزش کے لیے ایسے جِم جانا جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403102229
تاریخ24-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں