بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پیدائشی مختون کا دوبارہ ختنہ کا حکم

سوال

ایک بچے کا پیدائشی طور پر حشفہ ایسا نظر آتا ہے کہ اس کا ختنہ ہوچکا ہے تو دوبارہ اس کا ختنہ کرانا ضروری ہے یا وہ کافی ہے ؟

جواب

   واضح رہے کہ ختنہ کرنا ایک مسنون عمل ہےجس میں بچے کے عضو تناسل کے اوپر والے چمڑے کو کاٹ کر حشفہ ظاہر کیا جاتا ہے، لیکن اگر کسی بچے کے حشفہ کے اوپر  زائد چمڑا پیدائشی طور پر نہ ہو تو ڈاکٹر یا ختنہ کرنے والے کو دکھایا جائے، اگر وہ   پورا مختون ہے  تو دوبارہ اس کا ختنہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"وفي صلاة النوازل ‌الصبي ‌إذا ‌لم ‌يختن ولا يمكن أن يمد جلدته لتقطع إلا بتشديد وحشفته ظاهرة إذا رآه إنسان يراه كأنه ختن ينظر إليه الثقات وأهل البصر من الحجامين فإن قالوا هو على خلاف ما يمكن الاختتان فإنه لا يشدد عليه ويترك كذا في الذخيرة".

(کتاب الکراہیۃ،الباب التاسع عشر فی الختان ۔۔۔۔۔،ج:5،ص:357،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403102223
تاریخ24-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں