بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

منبر کی دوسیڑھیاں بنانا

سوال

مسجد کے منبر کے لیے تین سیڑھیوں کا ہونا ضروری ہے یا جگہ کی کمی کی وجہ سےدوبھی کافی ہے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں منبر بلند جگہ   کوکہتے ہیں  جس پر چڑھ کر خطیب خطبہ دیتا ہے،حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر میں تین سیڑھیاں تھیں ،اس لیے سنت یہ ہے کہ منبر میں تین سیڑھیاں ہوں،  البتہ  جگہ کی تنگی کی وجہ سےدو بھی بنا سکتے ہیں   ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ومنبرہ - صلی اللہ علیہ وسلم - کان ثلاث درج غیر المسماة بالمستراح."

(کتاب الصلوۃ،باب الجمعہ،161/2،سعید)

عمدة القاری میں  ہے :

"حكى بعض أهل السير أنه صلى الله عليه وسلم كان يخطب على ‌منبر من طين قبل أن يتخذ المنبر الذي من خشب. قلت: يرده الحديث الذي ذكرناه، والأحاديث الصحيحة، أنه صلى الله عليه وسلم كان يستند إلى الجذع إذا خطب.ثم إعلم أن المنبر لم يزل على حاله ثلاث درجات حتى زاده مروان في خلافة معاوية ست درجات من أسفله".

(باب الخطبۃ علی المنبر،215/6،دار إحياء التراث العربي)

لسان العرب میں ہے :

"والمنبرُ: مرقاة الخاطب، سمِّيَ منبراً لارتفاعِه وعُلوِّه. وانتبر الأَمير: ارتفع فوق ‌المنبر."

(189/5،دار صادر)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403102222
تاریخ24-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں