بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ان پڑھ شخص کے غلط بیانی سے طلاق نامہ پر انگوٹھا لگانے سے طلاق کا حکم

سوال

اگر ایک ان پڑھ شخص سے جو بالکل بھی پڑھا لکھا نہ ہو قریبی دوست طلاق کے کاغذ پر  غلط بیانی سے انگوٹھا لگائے تو کیا طلاق واقع ہوجاتی ہے یا نہیں ؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں اگر واقعۃً کوئی شخص ان پڑھ ہو اور کوئی   قریبی دوست دھوکہ دہی اور غلط بیانی سے ان پڑھ شخص  سے  طلاق نامہ پر انگوٹھا لگوالے اور اس ان پڑھ شخص کو معلوم ہی نا ہو کہ یہ طلاق نامہ ہے ،نہ کسی نے اسے پڑھ کر سنایا ہو تو اس  سے طلاق واقع نہیں ہوگی ۔

فتاوی شامی میں ہے :

"‌وكذا ‌كل ‌كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه اهـ".

(کتاب الطلاق،باب صریح الطلاق،ج:3،ص:247،سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403102166
تاریخ24-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں