بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی بھی اچھے عمل کی قبولیت کی دعا کب تک مانگنی چاہیے؟

سوال

کسی بھی اچھے عمل کی قبولیت کی کب تک دعا کرتے رہنا چاہیے؟ مثلاً میں نے اس سال حج کیا تو اس حج کی قبولیت کی دعا کب تک کرتا رہوں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی بھی عمل کے بارے میں یہ معلوم ہونا کہ قبول ہوا ہےیا نہیں اس  کا علم باری تبارک وتعالی کو ہے ، انسان کے ذمہ ہے اس کی قبولیت کی دعاء مانگتے رہنا ہے  اور چوں کہ دعا مانگنا عبادت بھی ہے اور دعاء  کو حدیث مبارک میں عبادت کا مغز قرار دیاگیا ہے ، لہذا کسی بھی اچھے عمل کی قبولیت کی دعاء جب تک ہو سکے کرتے رہنا چاہیے ،تاہم اتنا کہہ دینا بھی کافی ہے کہ اے اللہ ! میری تمام عبادتیں قبول فرما۔

مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے :

"‌و لاينبغي ‌للعبد أن يمل من الدعاء، لأنه عبادة، وتأخير الإجابة إما لأنه لم يأت وقته؛ لأنّ لكل شيء وقتًا مقدرا في الأزل، أو لأنه لم يقدر في الأزل قبول دعائه في الدنيا فيعطى في الآخرة من الثواب عوضه، أو يؤخر دعاؤه ليلح و يبالغ في الدعاء، فإنّ الله يحبّ الملحين في الدعاء، و لعل عدم قبول دعائه بالمطلوب المخصص خير له من تحصيله، {والله يعلم و أنتم لاتعلمون}."

(كتاب الدعوات ، 4/ 1525، ط: دار الفكر۔بيروت )

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403102104
تاریخ23-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں