بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اذان کا جواب دینے کے لیے گھر کا کام روکنا چاہیے یا نہیں؟

سوال

کیا اذان کا جواب دینے  کے لیے گھر کا کام روکنا  چاہیے یا نہیں روکنا  چاہیے؟ مثلا روٹی وغیرہ پکاناسالن بنانا؟

جواب

اذان ہوتے وقت خاموشی سے اذان کو سننا اور اذان کا جواب دینا مستحب ہے ، البتہ اگر گھر کے کام  میں مصروف ہو  اور درمیان میں اذان شروع ہوجائے  تو اس کے لیے کام کرنے کےساتھ ساتھ اذان کا جواب دےدے۔

در المختاروحاشية ابن عابدين میں ہے:

"وفي التحفة: وينبغي للسامع أن لا يتكلم ولا يشتغل بشيء في ‌حالة ‌الأذان والإقامة ولا يرد السلام أيضا؛ لأن الكل يخل بالنظم"

(کتاب الصلاۃ،باب الاذان،ج:1،ص: 399،ط:دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403102100
تاریخ22-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں