بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورتوں کا نامحرم مردوں کی چیزیں تو لیہ صابن وغیرہ استعمال کرنے کا حکم

سوال

عورتوں کا نا محرم مردوں کی چیزوں یعنی تولیہ، صابن یا کنگھی وغیرہ کا استعمال کرنا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں عورت  کے لیےنامحرم مردوں کی  چیزوں یعنی تولیہ، صابن ، کنگھی، پانی  کاجھوٹاوغیرہ کا محبت و شوق کے بغیر ضرورتاً استعمال کرناجائز ہے، البتہ نامحرم مردوں  کی طرف قلبی میلان اور تلذذ کے تصور کے ساتھ مذکورہ  چیزوں کااستعمال کرنا مکروہ ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

" (فسؤر آدمي مطلقا) ولو جنبا أو كافرا أو امرأة، نعم يكره سؤرها للرجل كعكسه للاستلذاذ واستعمال ريق الغير، وهو لا يجوز مجتبى."

(باب المياه،فصل في البئر،1 /221،ط:سعيد)

 فتاوی ہندیہ میں ہے:

" و کراهة سؤر المرأۃ للأجنبي کسؤرہ لها لیس لعدم طھارته، بل للإستلذاذ کذا في النهر الفائق ....."

(كتاب الطهارة ،الباب الثالث في المياه وفيه فصلان،۱/ ۲۳،ط:رشيدية)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403101946
تاریخ20-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں