بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غروب کے وقت فوت ہونے والے کی تاریخ وفات کیا ہو گی؟

سوال

ایک شخص کا انتقال غروب آفتاب کے وقت ہوا اور تدفین بعد عشاء یا اگلی صبح کے وقت عمل میں آئی ایسی صورت  میں  اس  میت  کی تاریخ  وفات  کیا ہوگی آیا  وہ دن جس دن کی شام کو انتقال ہوا یا قمری تقویم کا اعتبار کرکےاس کی تاریخ وفات لکھی جائے گی؟

جواب

صورتِ  مسئولہ  میں  جب  غروب آفتاب سے پہلے انتقال ہوا تو اس دن جو شمسی اور قمری تاریخ ہوگی وہی اس کی تاریخ وفات لکھی جائے گی اگرچہ تدفین اس دن عشاء کے بعد،یا اگلے دن ہوئی ہو۔

الد رالمختار وحاشية ابن عابدین میں ہے: 

"(قوله: وهي ثلاثة) و كذا أيام التشريق ثلاثة، والكل يمضي بأربعة أولها نحر لا غير و آخرها تشريق لا غير و المتوسطان نحر و تشريق هداية و فيه إشعار بأن التضحية تجوز في الليلتين الأخيرتين لا الأولى، إذ الليل في كل وقت ‌تابع لنهار مستقبل إلا في أيام الأضحية فإنه ‌تابع لنهار ماض كما في المضمرات وغيره"

(کتاب الأضحية،ج: 6، صفحہ: 316، ط: ايچ ، ايم، سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403101911
تاریخ20-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں