بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اونٹ کا گوشت کھانا سنت ہے

سوال

اونٹ کا گوشت کھانا سنت ہے یا نہیں؟

جواب

اونٹ کا گوشت کھاناسنت  عادی (سنت زوائد) میں سے ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی اونٹ کا گوشت تناول فرمانے کی ،اور سنت عادیہ کاحکم یہ ہے اگر کوئی اس سنت پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و اتباع میں عمل کرے گا تو وہ ثواب کامستحق ہوگا،اور اگر كوئی اس  سنت پر عمل نہ كرے تو اس پر كوئی گناه نہيں ہے۔

شرح معاني الآثار میں ہے:

"فمنها لحم طاهر مأكول ، وهو ‌لحم ‌الإبل والبقر والغنم."

(كتاب الطهارة، باب سؤر الهرة،ج:1،ص:21،الرقم:62،ط:عالم الكتب بيروت)

التمهيد ابن عبدالبر میں ہے:

"في الأحاديث الثابتة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل خبزا ولحما وأكل كتفا ونحو هذا كثير (ولم يخص لحم جزور من غيره)."

(باب الزاي،حديث سابع لزيد ابن اسلم،ج:3،ص:315،ط:الشؤون الإسلاميه)

فتاوی شامی میں ہے:

"والسنة نوعان: سنة الهدي، وتركها يوجب إساءة وكراهية كالجماعة والأذان والإقامة ونحوها. وسنة الزوائد، وتركها لا يوجب ذلك كسير النبي - عليه الصلاة والسلام - في لباسه وقيامه وقعوده."

(كتاب الطهارة،سنن الوضوء،مطلب في السنة وتعريفها،ج:1،ص:103،ط:سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403101881
تاریخ19-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں