بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جاندار کی تصویر بنانا جائز نہیں ہے

سوال

تصویر بنانا کسی موقع پر جائز ہوتی ہے  یا نہیں ؟

جواب

   ذی روح جاندار کی تصویر بنانا کسی بھی  ذریعے سے اور کسی بھی موقع پر جائز نہیں ہے، جن مواقع پر انسان سرکاری قواعد وضوابط کی وجہ سے مجبور ہو، وہاں بھی تصویر بنانا جائز تو نہیں ہوتا، لیکن اس کا گناہ قانون بنانے والے پر ہوتا ہے، البتہ غیر جاندار مثلاً: قدرتی خوبصورت مناظر وغیرہ جس میں ذی روح کی تصویر نہ ہو  تو ان مناظر کی تصویر بناناجائز ہے۔

  صحیح البخاری میں ہے:

"عن عبد اللّٰه قال : سمعت النبي ﷺ یقول : ’’ إن أشد الناس عذاباً عند اللّٰه المصورون."

( کتاب اللباس ، باب عذاب المصورین یوم القیامة ، ج:1، ص:167، ط:السلطانية)

"ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ  اللہ تعالی کے ہاں سب سے سخت عذاب تصویر بنانے والوں کو ہوگا۔"

فتاوی شامی میں ہے:

"و ظاهر كلام النووي في شرح مسلم: الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ فينبغي أن يكون حراماً لا مكروهاً إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل بتواتره …"

(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها،ج:1،ص:647 ،ط: دار الفكربيروت)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403101870
تاریخ19-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں