بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ترکہ کی تقسیم

سوال

 باپ کا انتقال ہوگیا ،52مرلےزمین ہے، ورثاء میں  ایک بیوہ، ایک بیٹا اور 5بہنیں ہیں، ہر ایک کو کتنا حصہ ملے گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم والد کا ترکہ تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ ادا کرنے کے بعد، مرحوم کے ذمہ اگرکوئی قرض ہوتو اسے ادا کرنے کے بعد، مرحوم نے اگر کوئی جائز وصیت کی ہوتو اسے باقی ترکہ کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد باقی کل ترکہ منقولہ  وغیر منقولہ کو سات حصوں میں تقسیم کرکے مرحوم کی بیوہ کو ایک حصہ اور باقی  سات حصے مرحوم کےاکلوتے بیٹے کو ملیں گے، جب کہ مرحوم کی بہنوں کومرحوم کی میراث میں سے کچھ نہیں ملے گا۔

تقسیم کی صورت یہ ہے:

میت:8

بیوہ بیٹا
1 7

یعنی مثلاً 100روپے میں سےبیوہ کو 12.5 روپے اور مرحوم کے بیٹے کو 87.5روپے ملیں گے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403101854
تاریخ19-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں