بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مناہل اور منیحہ نام رکھنا

سوال

میں اپنی بیٹی کا نام مناہل اور منیہا رکھناچاہتا ہوں،براہِ مہربانی اس کا مطلب بتادیں اور یہ نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ "مناہل" (میم اور نون کے زبر کے ساتھ )  مَنْھَلٌ کی جمع ہے، اس کا معنی ہے: "بہت سارے پانی کے چشمے "، یہ نام رکھنادرست ہے۔

"منیہا" کا اصل اوردرست تلفظ مَنِیحَہ(میم پر زبر اور نون کے زیر کے ساتھ ) ہے اور "منیحہ "کا معنی ہے:  تحفہ  اور عطیہ،یہ نام رکھنابھی درست ہے۔

(القاموس الوحید ،ص:1718،ط:ادارۂ اسلامیات )

تاج العروس میں ہے:

"منح :( منحه ) الشاة والناقة ( كمنعه و ضربه ) يمنَحَه و يمنِحُه :أعاره إياها،وذكره الفراء في باب بفعَل و يفعِل. و منحه مالا: وهبه. و منحه :أقرضه. ومنحه : (أعطاه، والاسم المنحة،بالكسر )، وهي العطية،كذا في ( الأساس ) .(و ) قال اللحياني : ( منحه الناقة : جعل له وبرها و لبنها و ولدها.وهي المنحة )،بالكسر ( والمنيحة )".

(فصل الميم مع الحاء المهملة،ج:7،ص:154،ط:دارالهداية)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403101747
تاریخ18-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں