بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کا بیوی کو نام لے کر پکارنا

سوال

شوہر اپنی بیوی کو نام پکار کر بلاسکتا ہے؟

جواب

شوہر اپنی بیوی کو اس کے نام سے پکار سکتا ہے۔

"الدر المختار مع رد المحتار " میں ہے:

"(ويكره أن يدعو الرجل أباه وأن تدعو المرأة ‌زوجها ‌باسمه) اهـ بلفظه.

(قوله ويكره أن يدعو إلخ) بل لا بد من لفظ يفيد التعظيم كيا سيدي ونحوه لمزيد حقهما على الولد والزوجة، وليس هذا من التزكية، لأنها راجعة إلى المدعو بأن يصف نفسه بما يفيدها لا إلى الداعي المطلوب منه التأدب مع من هو فوقه."

(كتاب الحظر و الإباحة، ج:6، ص:418، ط:سعيد) 

فتاوی رحیمیہ میں ہے:

"سوال: 1: میاں بیوی کو اس کا نام لے کر بلا سکتا ہے؟ اور بیوی اپنے میاں کو نام سے پکار سکتی ہے؟ ...

الجواب: مرد اپنی بیوی کو اس کے نام سے پکار سکتا ہے، لیکن عورت اپنے خاوند کو اس کے نام سے نہ پکارے کہ یہ بے ادبی اور گستاخی کی بنا پر مکروہ ہے۔يكره أن يدعو الرجل أباه و المرأة زوجها باسمه(كذا في السراجية)۔۔۔"

(کتاب الحظر و الاباحۃ، متفقات حظر و اباحت، ج:10، ص:233، ط: دار الاشاعت) 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403101687
تاریخ17-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں