بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تسمیہ میں اللہ کے رسول کا ذکر نہیں ہے

سوال

 کیا تسمیہ میں اللہ کے رسول کا ذکر ہے یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں  تسمیہ سے  اگر آپ کی مراد بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہےتواس میں صرف اللہ تعالی کے نام کا ذکرہے،اللہ کے رسول کا ذکرنہیں ہے،اور اگر کچھ اور مراد ہے تواپنی مراد کو واضح کرکے دوبارہ رجوع کریں۔

تفسیر ابی سعود میں ہے:

"(إياك نعبد وإياك نستعين )نخصك بالعبادة والإستعانة فإن كل ما سواك كائنا ما كان بمعزل من استحقاق الوجود فضلا عن استحقاق أن يعبد أو يستعان."

(سورة الفاتحه،ج:1،ص:16،ط:داراحياء التراث العربي)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403101673
تاریخ17-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں