بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حالتِ احرام میں حجر اسود کو بوسہ دینے کا حکم

سوال

حالتِ احرام میں حجر اسود کو بوسہ دینے کا حکم کیا ہے؟

جواب

حجر اسود پر چوں کہ خوش بو لگی ہوئی ہوتی ہے؛ اس لیے احرام کی حالت میں اس کا بوسہ نہیں لینا چاہئے تاکہ دم واجب نہ ہو۔

المحیط البرہانی فی الفقہ النعمانی میں ہے:

"وقال في المحرم: إذا مس الطيب أو استلم الحجر فأصاب يده خلوق، إن كان ما أصابه كثير فعليه الدم."

(كتاب المناسك، الفصل الخامس في ما يحرم على المهرم بسبب إحرامه، 453/2، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403101665
تاریخ17-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں