بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق یا خلع کے بعد لڑکی کے ماں باپ کی طرف سے لڑکی کو دیا گیا جہیز اور زیور کا مالک کون؟

سوال

طلاق یا خلع کے بعد لڑکی کے ماں باپ  کی طرف سے لڑکی کو دیا گیا جہیز اور زیورات کے حق دار لڑکی کے ماں باپ ہوں گے یا وہی نافرمان مطلقہ یا خلع یافتہ لڑکی ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں نکاح کے موقع پر لڑکی کے ماں باپ  کی طرف سے لڑکی کو دیا گیا جہیز اور زیورات کی مالک لڑکی ہی ہے، نکاح کے باقی رہنے یا ختم ہونے سے، اسی طرح لڑکی کے فرمان بردار ہونے یا نہ ہونے سے اس حکم میں کوئی فرق نہیں آتا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(جهز ابنته بجهاز وسلمها ذلك ليس له الاسترداد منها ولا لورثته بعد أن سلمها ذلك وفي صحته) بل تختص به (وبه يفتى)".

(كتاب النكاح، باب المهر،ج:3،ص:155،ط:سعيد)

وفيہ ایضاً:

"فإن كل أحد يعلم ‌أن ‌الجهاز ملك المرأة وأنه إذا طلقها تأخذه كله، وإذا ماتت يورث عنها".

(كتاب النكاح، باب المهر،ج:3،ص:153،ط:سعيد)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403101630
تاریخ17-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں