بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کا شوہر کے لیے خوشبو لانا/ مرد کے لپ اسٹک لگانے کا حکم

سوال

1۔ کیا عورت گھر پر اپنے دوستوں اور اپنے شوہر کے سامنے ، خوشبو لگا سکتی ہے؟

2۔ کیا مرد اپنی بیوی کے سامنے گھر پر لپ سٹک (lipstick) لگا سکتا ہے؟

جواب

1۔ عورت کا اپنے شوہر کے لیے سجنا سنورنا اور خوشبو لگانا پسندیدہ عمل ہے، اسی طرح  محارم کے سامنے اورگھر میں خواتین کے سامنے خوشبو لگا کر آنا یا اپنی سہیلیوں کے سامنے خوشبو لگا کر آنا بھی جائز ہے، لیکن نامحرموں کے سامنے گھر سے باہر خوشبو لگا کر نکلنا جائز نہیں۔

2۔مرد کے لیے لپ اسٹک لگانا جائز نہیں ، اس لیے کہ  اس میں عورتوں کی مشابہت ہے اور عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے ان جیسی زیب و زینت کرنے والے مردوں پر حدیثِ مبارک میں  لعنت کی گئی ہے۔

سنن ابی داؤد میں ہے :

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ، وَلَكِنْ لِيَخْرُجْنَ وَهُنَّ تَفِلَاتٌ".

ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو، البتہ انہیں چاہیئے کہ وہ بغیر خوشبو لگائے نکلیں“۔

(سنن ابي داود، كتاب الصلاة، باب ما جاء في خروج النساء إلى المسجد، رقم الحدیث: 565)

صحیح بخاری میں ہے:

 عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ".

ترجمہ: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت بھیجی جو عورتوں جیسا چال چلن اختیار کریں اور ان عورتوں پر لعنت بھیجی جو مردوں جیسا چال چلن اختیار کریں۔

(صحيح البخاری، كتاب اللباس، باب المتشبهون بالنساء، والمتشبهات بالرجال، رقم الحدیث: 5885)

وفيه أيضا:

عن ابنِ عبَّاسٍ رضي اللَّه عَنْهُما قَالَ: "لَعَنَ رسُولُ اللَّه ﷺ المُخَنَّثين مِنَ الرِّجالِ، والمُتَرجِّلاتِ مِن النِّساءِ".

ترجمہ:ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخنث مردوں پر اور مردوں کی چال چلن اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی۔

(صحيح البخاری،كتاب اللباس، باب إخراج المتشبهين بالنساء من البيوت، رقم الحدیث: 5886)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403101618
تاریخ17-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں