بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کان کے ہڈی والے حصہ کو چھدوانا

سوال

کیا لڑکیوں کے لیے کان چھدوانا جائز ہے، کان کی ہڈی پر، ایک تو عام طور پر کان کے نرم گوشت پر چھدوائے جاتے ہیں، اور ایک کان کی اوپر والی ہڈی پر چھدواتے ہیں۔ کیا یہ جائز ہے؟

جواب

فقہاء کرام نے لڑکیوں کے لیے مطلقا کان چھدوانے کی اجازت دی ہے ،کان کے کسی خاص حصہ کی قید نہیں ہے کہ صرف  نرم حصہ یا ہڈی والا حصہ کو چھدوائیں،لہذا اگر طبی اعتبار سے کوئی نقصان نہ ہو تو ہڈی والے حصہ کو  چھدوانے کی اجازت ہے ۔

وفي الدر المختار وحاشية ابن عابدين:

"ولا بأس بثقب أذن البنت والطفل استحسانا ملتقط.

(قوله والطفل) ظاهره أن المراد به الذكر مع أن ثقب الأذن لتعليق القرط، وهو من زينة النساء، فلا يحل للذكور، والذي في عامة الكتب، وقدمناه عن التتارخانية: لا بأس بثقب أذن الطفل من البنات وزاد في الحاوي القدسي: ولا يجوز ثقب آذان البنين فالصواب إسقاط الواو."

 (كتاب الحظر والإباحة,فصل في البيع,رد المحتار6/ 420ط:سعيد)

وفي البحر الرائق :

"وكذا يجوز ثقب أذن البنات الأطفال؛ لأن فيه منفعة للزينة وكان يفعل ذلك من وقته - صلى الله عليه وسلم - إلى يومنا هذا من غير نكير."

(8/ 554الناشر: دار الكتاب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403101585
تاریخ16-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں