بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ابتسم نام رکھنے کا حکم

سوال

ابتسم نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

لفظ"ابتسم"عربی زبان  میں دو طرح استعمال ہوتا ہے،سین کے زبر  کے ساتھ یعنی إبتسَم( صیغہ ماضی)،اور سین کے زیر کے ساتھ یعنی"إبتسِم" (صیغہ امر)،اوردونوں صورتوں میں اس کے معنی بادل سے بجلی چمکنا،اور مسکرانا،تاہم پہلی حالت میں ماضی کا صیغہ اور دوسری میں امر کا صیغہ ہے،زیر نظر مسئلہ میں ماضی یا امر کے صیغہ کے ساتھ نام رکھنے کی بجائے مبالغہ کے صیغہ کے ساتھ نام رکھا جائے یعنی "بسّام"تو اس کا معنی ہے خوب مسکرانے والا۔

بَسَّام : (معجم الغني):

"(صِيغَة فَعَّال لِلْمُبالَغَةِ).

1- وَلَدٌ بَسَّامٌ :كَثيرُ الاِبْتِسامِ.

2- اِسْمُهُ بَسَّامٌ : اِسْمُ عَلَمٍ لِلْمُذَكَّرِ."

"القاموس الوحید "میں ہے:

’’إبتسم:بادل سے بجلی چمکنا،مسکرانا۔‘‘

(ص:166، ط:ادارہ اسلامیات)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403101562
تاریخ16-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں