سالی سے دواعی جماع کرنے کا حکم
سوال
بیوی کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کی بہن کے ساتھ دواعی جماع کرنے سے بیوی کا کیا حکم ہے؟ کیا نکاح پر کچھ اثر پڑےگا؟
جواب
سالی سے پردہ کرنا ضروری ہے، اس کے سامنے بے پردہ آنا، اس کے ساتھ تنہائی اختیار کرنا ، بوس و کنار کرنا یا بدکاری کرنا تمام امور گناہ ہیں، لہذا ان تمام چیزوں سے اپنے آپ کو دور رکھا جائے، اگر کوئی شخص اپنی سالی کے ساتھ دواعی جماع کرتا ہے تو یہ انتہائی قبیح فعل ہے، اس پر توبہ و استغفار کرنا لازم ہے، تاہم اس سے اس کی بیوی حرام نہیں ہوئی۔
الدر المختار میں ہے:
"وفي الخلاصة: وطئ أخت امرأته لا تحرم عليه امرأته."
(کتاب النکاح ، فصل فی المحرمات جلد ۳ ص: ۳۴ ط: دارالفکر)
فقط و اللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

