بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں دامن درست کرنا

سوال

حالت نماز میں دامن کو درست کرنا اور سمیٹنامکروہ تحریمی ہے یا نہیں؟

جواب

نماز میں  بلاضرورت دامن کو درست کرنا اورسمیٹنا مکروہ تحریمی ہے ۔

وفي الدر المختار وحاشية ابن عابدين:

"(و) كره (كفه) أي رفعه ولو لتراب كمشمر كم أو ذيل (وعبثه به) أي بثوبه (وبجسده) للنهي إلا لحاجة.

(قوله أي رفعه) أي سواء كان من بين يديه أو من خلفه عند الانحطاط للسجود بحر. وحرر الخير الرملي ما يفيد أن الكراهة فيه تحريمية ."

 (كتاب الصلاة,باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها,رد المحتار1/ 640ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403101438
تاریخ14-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں