بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پوسٹ مارٹم کے لیے میت کو قبر سے نکالنا

سوال

کیاقتل کی تحقیق کے لیے کورٹ کے حکم سے 2 سال کے بعد میت کو پوسٹ مارٹم کے لیےقبر سے نکالا جاسکتا ہے؟

جواب

میت کو قبرسے نکالنا اورنعش کا پوسٹ مارٹم کراناشرعاً جائزنہیں ہے،کیوں کہ میت کے ساتھ اس قسم کا طرزعمل اس کی توہین اورتکلیف کے مترادف ہے،حدیث شریف میں ہے کہ " میت کوا سی طرح تکلیف پہنچتی ہے جس طرح زندہ کو پہنچتی ہے۔

صورتِ مسئولہ میں دو سال کے بعد میت کو پوسٹ مارٹم کے لیے قبر سے نکالنا جائز نہیں ہے۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن عائشة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «‌كسر ‌عظم الميت ككسره حيا."

(كتاب الجنائز، باب دفن الميت، الفصل الثاني، ج:1، ص:537، ط:المكتب الإسلامي بيروت)

ملاقی الفلاح میں ہے:

"ولا يجوز نقله ‌بعد ‌دفنه ‌بالإجماع بين أئمتنا طالت مدة دفنه أو قصرت للنهي عن نبشه والنبش حرام حقا لله تعالى."

(كتاب الصلاة، باب أحكام الجنائز، فصل في حملها ودفنها، ص:227، ط:المكتبة العصرية)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403101427
تاریخ14-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں