بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عصر کی نماز میں امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنے کا حکم

سوال

عصر کی نماز میں امام صاحب کے پیچھے خاموش رہنا ہے یا سورہ فاتحہ پڑھنی ہے؟

جواب

مقتدی کے لیے امام کی اقتداء میں قراءت کرنا جائز نہیں ہے، چاہے جہری نماز ہو یا سری نماز ہو، چاہے سورہ فاتحہ ہو یا کوئی اور سورت، امام کے پیچھے قیام کی حالت میں خاموش  رہنا لازم ہے۔

الدر المختار میں ہے:

"(والمؤتم لا يقرأ مطلقا) ولا الفاتحة في السرية اتفاقا، وما نسب لمحمد ضعيف كما بسطه الكمال."

(كتاب الصلاة، ج:1، ص:554، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403101416
تاریخ14-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں