کیا غلطی سے قرآن کریم گر جانے سے کفارہ لازم آتا ہے؟
سوال
اگر قرآن پاک سہوا ًگر جائے تو کیا کیا جائے ؟ مطلب صرف توبہ کرلینا کافی ہے یا کفارہ وغیرہ دینا بھی ضروری ہے؟
جواب
اگر غلطی سے بلاقصد و ارادے کے قرآن پاک ہاتھ سے گرجائے تو اس بے احتیاطی پر توبہ و استغفار کرنا چاہیے، تاہم اس سے کوئی مالی کفارہ لازم نہیں آتا، اپنے طور پر کچھ صدقہ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، لیکن اس کو لازمی نہ سمجھا جائے۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:
"سوال: اگر قرآنِ پاک ہاتھ سے گر جائے تو اس کے برابر گندم خیرات کر دینا چاہیے، اگر کوئی دینی کتاب مثلا: حدیث، فقہ وغیرہ ہاتھ سے گر جائے تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟
جواب: قرآنِ کریم ہاتھ سے گر جانے پر اس کے برابر گندم خیرات کرنے کا مسئلہ جو عوام میں مشہور ہے، یہ کسی کتاب میں نہیں، اس کوتاہی پر توبہ و استغفار کرنا چاہیے اور صدقہ خیرات کرنے کا بھی مضائقہ نہیں۔"
(قرآنِ کریم کی عظمت اور اس کی تلاوت، ج:4، ص:491، ط:مکتبہ لدھیانوی، 2011ء)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

