بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا بریرہ نام بیٹی کے لیےدرست ہے؟

سوال

کیا بریرہ نام بیٹی کے لیےدرست ہے؟

جواب

"بریرہ" ایک مشہور صحابیہ رضی اللہ عنہا  کانام  ہے،جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باندی تھیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے  انہیں آزاد کیا تھا ،اس کا  معنی ہے  "نیک، دین دار" ،  لہذ ااپنی بچی کا نام ”بریرہ“ رکھنادرست ہے؛اس ليے كه ايك تو اس كامعني درست هےاوردوسرا اس لیے کہ بچیوں کےنام صحابیات کے نام پررکھنا   سعادت اور برکت کا باعث ہے۔ 

الاصابہ فی تمییز الصحابہ میں ہے:

"بريرة مولاة عائشة قيل: كانت مولاة لقوم من الأنصار، وقيل: لآل عتبة بن أبي إسرائيل، وقيل: لبني هلال."

(بريرة مولاة عائشة،ج:8،ص:50،ط:دار الكتب العلمية يروت)

مرقاة المفاتيح ميں ہے:

"(عن عروة عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لها في بريرة:) أي: في شأنها وأمر شرائها (خذيها) أي: من مواليها باشترائها (فأعتقيها، وكان زوجها عبداً، فخيرها) أي: بريرة (رسول الله صلى الله عليه وسلم) أي: بين فسخ النكاح وإمضائه (فاختارت نفسها ولو كان حراً لم يخيرها)".

(باب المباشرۃج:5،ص:2095،رقم الحدیث:3198ط:دار الفكر،بيروت،لبنان)

فقط واللہ أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403101365
تاریخ13-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں