بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ناپاک چیز کھاکر پانی پینے والے کے جھوٹے کا حکم

سوال

کوئی شخص کوئی ناپاک چیز کھا کر پانی پیے تو اس کے جھوٹے کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  اگر کوئی شخص ناپاک چیز کھاکر فورا پانی  پیے تو  اس شخص کا جھوٹا ناپاک ہو گا، اور اس کے جھوٹے کا پینا جائز نہ ہوگا،اور  ناپاک چیز کھانے کے بعد اگر فورا  پانی نہ پیے، بلکہ  منہ میں اپنا تھوک  کئی بار گھما کر پھینک دے یا اسے نگل لے توایسی صورت میں اس شخص کا جھوٹا پاک ہوگا، البتہ  اس کا پینا مکروہ ہے۔

"حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح" میں ہے:

"وإذا ‌تنجس ‌فمه فشرب الماء من فوره تنجس، وإن كان بعد ما تردد البزاق في فمه مرات وألقاه أو ابتلعه قبل الشرب فلا يكون سؤره نجسا عند أبي حنيفة وأبي يوسف، لكنه مكروه لقول محمد بعدم طهارة النجاسة بالبزاق عنده قوله:" ‌وإذا ‌تنجس ‌فمه " كأن شرب خمرا أو أكل أو شرب نجسا أو قاء ملء الفم."

[كتاب الطهارة، فصل في أحكام السور، ص:29، ط:دارالكتب العلمية]

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403101217
تاریخ11-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں