بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1448ھ 16 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مالک کو بتائے بغیر منافع لینے کا حکم

سوال

زاہد ایک دوسرے شہر میں کام کرتا ہے جب وہ چھٹی پر جاتا ہے تو رشتے دار اور اہل محلہ اس سے کچھ چیزیں منگواتے ہیں کیا وہ ان چیزوں میں  ان سے منافع لے سکتا ہے؟ اور منافع کے بارے میں کسی کو بتانا ضروری ہے ؟ 

جواب

صورت مسئولہ میں زاہد کا رشتہ داروں اور اہل محلہ کو بتائے بغیر اشیاء منگوانے پر منافع لینا جائز نہیں ہے۔البتہ اگر زاہد پہلے سے یہ طے کر لے  کہ میرا چیزوں کی خریداری پر  وقت بھی خرچ ہوتا ہے اور مشقت بھی اٹھانی پڑتی ہے، لہذا میں چیزوں کے لانے پر کمیشن  لوں گا اور کمیشن طے بھی کر لے تو پھر ایسی صورت میں طے شدہ کمیشن لینادرست ہو گا۔

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام میں ہے: 

"الثمن المسمى هو الثمن الذي يسميه ويعينه العاقدان وقت البيع بالتراضي سواء كان مطابقاً للقيمة الحقيقية أو ناقصاً عنها أو زائداً عليها".

(رقم المادة: 153، ج: 1، صفحہ: 124)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403101181
تاریخ11-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں