بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قسم کا کفارہ ادا کرنے کے بعد دوبارہ قسم توڑنے کا حکم

سوال

قسم کا کفارہ ادا کرنے کے بعد اگر ہم دوبارہ قسم کو توڑیں تو کیا حکم ہوگا؟

جواب

ایک قسم کھانے کے بعد اگر اس کو توڑدیا تو ایک ہی کفارہ لازم ہے، چاہے اس قسم کو کفارہ ادا کرنے سے پہلے کئی دفعہ توڑے، البتہ اگر ایک دفعہ کفارہ ادا کرنے بعد دوبارہ قسم کھائی ہو تو پھر دوبارہ اس قسم کو توڑنے پر دوبارہ کفارہ لازم ہوگا۔

الدر المختار میں ہے:

"(وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا)."

(الدر المختار، کتاب الطلاق، باب التعلیق، 355/3، سعید)

وفیہ ایضا:

"و في البحر عن الخلاصة والتجريد: وتتعدد الكفارة لتعدد اليمين، والمجلس والمجالس سواء؛ ولو قال: عنيت بالثاني الأول ففي حلفه بالله لايقبل، وبحجة أو عمرة يقبل. وفيه معزياً للأصل: هو يهودي هو نصراني يمينان، وكذا والله والله أو والله والرحمن في الأصح. واتفقوا أن والله والرحمن يمينان، وبلا عطف واحدة."

(الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الایمان، 714/3، سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403101161
تاریخ11-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں