بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حنین زہراء نام رکھنا

سوال

کیا حنین زھراء نام رکھنا جائز ہے؟

جواب

"حُنَین" (ح کے پیش اور نون کے زبر کے ساتھ) مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی کا نام ہے، جہاں غزوہ حنین کا معرکہ پیش آیا تھا،  حنین کا ایک معنی ہے "رحمت" ، نیز بعض صحابہ کرام کا بھی یہ نام رہا ہےلہذا حنین نام رکھنا   صحیح اور باعثِ برکت ہے ،اور لفظ ”زَهْرَاء“ ہے، اس کے معنی سفید بادل، چمکتے اور سفید چہرے والی عورت، لہذا یہ نام رکھنا درست ہے۔

"معجم البلدان" میں ہے:

"حنين: يجوز أن يكون تصغير الحنان، وهو الرحمة، تصغير ترخيم۔۔۔وهو اليوم الذي ذكره جل وعز في كتابه الكريم: وهو قريب من مكة، وقيل:
هو واد قبل الطائف، وقيل: واد بجنب ذي المجاز، وقال الواقدي: بينه وبين مكة ثلاث ليال."

(ج: 2، ص: 313، ط: دار صادر)

لسان العرب (4/ 332):

"والمرأَة زَهْرَاءُ؛ وَكُلُّ لَوْنٍ أَبيض كالدُّرَّةِ الزَّهْراءِ، والحُوَار الأَزْهَر. والأَزْهَرُ: الأَبيضُ. والزُّهْرُ: ثلاثُ لَيَالٍ مِنْ أَوّل الشَّهْرِ. والزُّهَرَةُ، بِفَتْحِ الْهَاءِ: هَذَا الْكَوْكَبُ الأَبيض".

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403101116
تاریخ11-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں